۱۲۱۔اور اللہ تعالیٰ فساد مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
(المائدہ:۶۴)
۱۲۲۔اے ایمان والو! اللہ نے تمہارے لئے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں ان کو حرام قرار نہ دو اور حد سے تجاوز نہ کرو، یقین جانور کہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
(المائدہ:۸۷)
۱۲۳۔اور اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور جس اللہ پر تم ایمان رکھتے ہو اس سے ڈرتے رہو۔
(المائدہ:۸۸)
۱۲۴۔اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔
(المائدہ:۸۹)
۱۲۵۔اے ایمان والو! شراب، شراب، بتوں کے تھان اور جوّے کے تیر، یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہٰذا ان سے بچو تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔
(المائدہ: ۹۰)
۱۲۶۔شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوّے کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض کے بیج ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے، اب بتاؤ کہ کیا تم (ان چیزوں سے) باز آجاؤ گے؟
(المائدہ:۹۱)
۱۲۷۔اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو خود اُس کے سواء اُسے دور کرنے والا کوئی نہیں اور اگر وہ تمہیں کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
(الانعام:۱۷)
۱۲۸۔اللہ اپنے بندوں پر مکمل اقتدار رکھتا ہے اور وہ حکیم بھی ہے، پوری طرح باخبر بھی۔
(الانعام:۱۸)
۱۲۹۔اور دنیوی زندگی تو ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں،اور یقین جانوں کہ جو لوگ تقویٰ اختیار رکتے ہیں ان کے لئے آخرت والا گھر کہیں زیادہ بہتر ہے۔
(الانعام:۳۲)
۱۳۰۔بات تو وہی لوگ مان سکتے ہیں جو حق طالب بن کر سنیں۔
(الانعام:۳۶)
۱۳۱۔اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
(الانعام:۵۹)
۱۳۲۔یاد رکھو! حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے زیادہ جلدی حساب لینے والا ہے۔
(الانعام:۶۲)
۱۳۳۔ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کردیتے ہیں، بیشک تمہارے رب کی حکمت بڑی اور علم کامل ہے۔
(الانعام:۸۳)
۱۳۴۔وہ ہے اللہ جو تمہارا پالنے والا ہے! اس کے سواء کوئی معبود نہیں وہ ہر چیز کا خالق ہے، لہٰذا اسی کی عبادت کرو، وہ ہر چیز نگرانی کرنے والا ہے۔
(الانعام:۱۰۲)
۱۳۵۔نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ تمام نگاہوں کو پالیتا ہے اس کی ذات اتنی لطیف ہے اور وہ اتنا ہی باخبر ہے۔
(الانعام:۱۰۳)
۱۳۶۔مسلمانو! جن معبودوں کو یہ لوگ اللہ کے بجائے پکارتے ہیں تم ان کو بُرا مت کہو جس کے نتیجہ میں یہ لوگ جہالت کے عالم میں حد سے آگے بڑھ کر اللہ کو بُرا کہیں۔
(الانعام:۱۰۳)
۱۳۷۔ان سب کو اپنے پروردگار کے پاس لوٹنا ہے، اس وقت وہ انہیں بتائے گا کہ وہ کیا کچھ کرتے تھے۔
(الانعام:۱۰۸)
۱۳۸۔تمہارے رب کا کلام سچائی اور انصاف میں کامل ہے، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں، وہ ہر بات سننے والا ہر بات جاننے والا ہے۔
(الانعام:۱۱۵)
۱۳۹۔یقین رکھو کہ تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون اپنے راستہ سے بھٹک رہا ہے اور وہی ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو صحیح راستہ پر ہیں۔
(الانعام:۱۱۷)
۱۴۰۔یہ حقیقت ہے کہ ظالملوگ فلاح نہیں پاتے۔
(الانعام:۱۱۳۵)
۱۴۱۔فضول خرچی نہ کرو، یاد رکھو! وہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔
(الانعام:۱۴۱)
۱۴۲۔غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو،ہم تمہیں بھی رزق دیں گے اور انہیں بھی۔
(الانعام:۱۵۱)
۱۴۳۔اے پیغمبر یقین جانو کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے۔
(الانعام:۱۵۹)
۱۴۴۔کہہ دیجئے کہ بیشک میری نماز، میری عبادت اور میرا جینا مرنا سب کچھ اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
(الانعام:۱۶۲)
۱۴۵۔جو کوئی شخص کوئی کمائی کرتا ہے تو اس کا نفع نقصان کسی اور پر ہیں خود اُسی پر پڑتا ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
(الانعام:۱۶۴)
۱۴۶۔قیامت کے دن اعمال کا وزن ہونا اٹل حقیقت ہے، چنانچہ جن کی ترازو کے پلے بھاری ہوں گے وہی فلاح پانے ہوں گے اور جن کی ترازو کے پلے ہلکے ہوں گے، وہی لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ زیادتیاں کرکرکے خود اپنی جانوں کو گھاٹے میں ڈالا ہے۔
(الاعراف:۹)
۱۴۷۔کہہ دیجئے! کہ اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیا کرتا۔
(الاعراف:۲۸)
۱۴۸۔کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار نے تو بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے، چاہے وہ بے حیائی کھلی ہوئی یا چھپی ہوئی، نیز ہر قسم کے گناہ اور ناحق کسی سے زیادتی کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔
(الاعراف:۳۳)
۱۴۹۔یقیناً تمہارا پروردگار وہ اللہ ہے جس نے سارے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے، پھر اس نے عرش پر استویٰ فرمایا۔
(الاعراف:۵۴)
۱۵۰۔یاد رکھو! پیدا کرنا اور حکم دینا سب اُسی کا کام ہے۔