مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں :جب تو اسے ملے تو سلام کرے،جب وہ تجھے بلائے تو اس کی بات کا جواب دے،جب وہ تجھ سے خیر طلب کرے توتو اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرے ،جب وہ چھنکے اور الحمد للہ کہے تو اسے یرحمک اللہ کہے،وہ جب بیمار ہوجائےتوتو اسکی عیادت کرے اور جب وہ مرجائے توتو اس کے جنازے کے پیچھے جائے۔
(۴۳)حَقُّ كَبِيرِ الإِخْوَةِ على صَغيرِهِمْ كَحَقِّالوَالِدِعلى وَلَدِه
(مسندالفردوس للدیلمی:۲۶۷۳)
بڑے بھائیوں کا حق چھوٹوں پر اس طرح ہے جس طرح باپ کا حق بیٹوں پر۔
(۴۴)حقُّ الوَلَدِ على الوالِدِ أنْ يُحَسِّنَ اسْمَهُ وَيُحَسِّنَ أدَبَهُ و أنْ يَعَلِّمَهُ الكِتابَةَ والسِّباحَةَ والرِّمايَةَ وأنْ لا يَرْزُقَهُ إلاَّ طَيباً وَاَنْ يُزَوِّجَهُ إذا أدْرَكَ
(فتح الکبیر)(مصنف ابن ابی شیبہ،۵/۳۱۹)
اولاد کا باپ پر یہ حق ہے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھے ،اس کی اچھی تربیت کرے، اسے کتابت، تیراکی اور تیر اندازی سکھائے ،اسے صرف حلال چیز کھلائے اور جب وہ بالغ ہوتو اس کی شادی کردے۔
پانچ اعمال پانچ خرابیوں کا ذریعہ بنتے ہیں(۱)جب کوئی قوم وعدہ خلافی کرتی ہے تو اللہ تعالی ان پر ان کے دشمن مسلط کردیتے ہیں(۲)جو لوگ اللہ تعالی کے احکامات سےہٹ کر فیصلہ کرتے ہیں ان پر فقر نازل ہوجاتا ہے(۳)جس قوم میں بے حیائی پھیل جاتی ہے ان پر ناگہانی موتکی آفت بھیج دی جاتی ہے(۴۹)جو لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں ان کی پیداوار روک لی جاتی ہے اور ان پر قحط سالی بھیج دی جاتی ہے(۵)جو لوگ زکوۃ دینا چھوڑدیتے ہیں ان سے بارش روک لی جاتی ہے۔
عدل اچھا ہے ؛لیکن امراء کا عدل بہت اچھا ہے،سخاوت اچھی صفت ہے ؛لیکن مالداروں کی سخاوت بہت اچھی چیز ہے، تقوی اعلی چیز ہے؛ لیکن علماء کا تقوی تو بہت ہی اعلی ہے، صبر اچھا ہے ؛لیکن فقراء کا صبر بہت ہی اچھا ہے ،توبہ اچھی چیز ہے ؛لیکن جوانی کی توبہ بہت ہی اچھی ہے،حیاء اچھی ہے؛ لیکن عورتوں کی حیا بہت ہی اچھی ہے۔
علماء رسولوں کے امین ہیں جب تک وہ بادشاہ سے میل جول نہ رکھیں اور دنیا داری میں مشغول نہ ہوں، جب وہ بادشاہ سے میل جول رکھیں اور دنیا میں مشغول ہوجائیں تو انہوں نے رسولوں سے خیانت کی ،پس جس عالم کی یہ حالت ہوتم اس سے اجتناب کرو۔